ابنا: ترکی کے اخبارات نے لکھا ہے کہ طارق الہاشمی نے چند روز قبل ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موساد کے تین اعلی افسروں سے ملاقات کی ہے۔ طارق الہاشمی نے اس ملاقات میں تل ابیب کے دورے اور اسرائیلی حکام سے ملاقات میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ طارق الہاشمی کے غلط اقدامات اور رویے کو عراق کے لیے ایک سکیورٹی مسئلہ اور موساد کے افسروں کے ساتھ ملاقات کو خود اس کے لیے سیاسی خود کشی قرار دیا جا سکتا ہے۔طارق الہاشمی کے غلط اقدامات اس لیے عراق کے لیے ایک سکیورٹی مسئلہ قرار دیے جاتے ہیں کہ عراق مفرور سابق نائب صدر نے عراقی حکومت کے تمام مخالفین کے ساتھ رابطے قائم کر رکھے ہیں اور وہ حکومت اور اسی طرح عراق کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔طارق الہاشمی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے عراقی عدالت جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد عراق کے علاقے کردستان بھاگ گيا۔ کردستان کا علاقہ اور اس کے حکام کا رویہ عراقی حکومت کے لیے ایک سنگیں مسئلے میں تبدیل ہو گيا ہے اور طارق الہاشمی کا اس علاقے میں فرار بھی عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان کے علاقے کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنا ہے۔عراق کے مفرور سابق نائب صدر نے اس سے قبل قطر اور سعودی عرب کا بھی سفر کیا تھا اور اس وقت وہ انقرہ میں ترک حکام کی حمایت کے زیرسایہ موجود ہے۔ عراق میں نوری مالکی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد قطر سعودی عرب اور ترکی نے ہمیشہ اس حکومت کی مخالفت کی اور ان ممالک کی جانب سے طارق الہاشمی کی حمایت نے عراق اور ان ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔طارق الہاشمی نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے افسروں سے ملاقات کی ہے تو عراق میں دہشت گردی کے واقعات کی ماضی میں صیہونی حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی کے پیش نظر اس بات کا امکان موجود ہے کہ عراق میں دہشت گردی کی لہر میں مزید اضافہ ہو گا اور دہشت گردی کے نئے واقعات صیہونی حکومت اور طارق الہاشمی کے گٹھ جوڑ سے انجام دیے جائيں گے۔ طارق الہاشمی کی موساد کے اعلی افسروں سے ملاقات سے یہ حقیقت اب ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئي ہے کہ ماضی میں بھی ان دونوں نے مل کر عراق میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا تھا اور حقیقت سامنے آنے کے بعد طارق الہاشمی عراق سے بھاگ اپنے دوستوں کے پاس پناہ لینے پر مجبور ہو گيا تھا۔اس سے قبل صیہونی حکومت کی سابق وزیر خارجہ زیپی لیونی نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ طارق الہاشمی کے تل ابیب کے سفر کے لیے ہم آہنگي انجام پا چکی ہے۔ طارق الہاشمی کا یہ اقدام اس کے لیے ایک سیاسی خودکشی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ نہ صرف عراق کی رائے عامہ بلکہ عرب دنیا کی رائے عامہ بھی صیہونی حکومت خاص طورپر موساد کے ساتھ ہر قسم کے تعلق اور رابطے کے بارے میں حساس ہے اور اس نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے۔موساد کے افسروں کے ساتھ طارق الہاشمی کے رابطے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف عراق کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے بلکہ وہ صیہونیوں کے ساتھ رابطہ قائم کر کے مغرب کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی ساتھ اپنے لیے ایک پناہ گاہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ طارق الہاشمی کا رابطہ قطر اور ترکی سمیت علاقے کے بعض ممالک کی مدد و حمایت سے قائم ہوا ہے۔...../169
8 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363466
عراق کے مفرور سابق نائب صدر طارق الہاشمی نے ترکی میں اپنے تازہ ترین اقدام میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے کئی اعلی افسروں سے ملاقات کی ہے۔